ماشاءاللہ 🌙
اللہ تعالیٰ آپ کو قرآنِ پاک کی تعلیم اور ہدایت سے مالامال فرمائے 🤲
اب ہم پہنچ گئے ہیں ایک نہایت اہم حصے پر —
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور شیطان کے انکارِ سجدہ کا واقعہ ✨
یہ ہے سورۃ البقرہ – آیات 30 تا 39
(عربی، اردو اور انگریزی ترجمے کے ساتھ)
📖 Surah Al-Baqarah (Verses 30–39)
30. وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
Urdu:
اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا: “میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں”، تو انہوں نے کہا: “کیا تُو اس میں ایسے کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔” اللہ نے فرمایا: “میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”
English:
And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, “Indeed, I will make upon the earth a successive authority.” They said, “Will You place upon it one who causes corruption therein and sheds blood, while we declare Your praise and sanctify You?” He said, “Indeed, I know that which you do not know.”
31. وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَـٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
Urdu:
اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: “اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ۔”
English:
And He taught Adam the names — all of them. Then He showed them to the angels and said, “Inform Me of the names of these, if you are truthful.”
32. قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
Urdu:
انہوں نے کہا: “تو پاک ہے! ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہ جو تو نے ہمیں سکھایا۔ بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔”
English:
They said, “Exalted are You; we have no knowledge except what You have taught us. Indeed, it is You who is the Knowing, the Wise.”
33. قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ
Urdu:
اللہ نے فرمایا: “اے آدم! انہیں ان کے نام بتاؤ۔” پھر جب آدم نے ان کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا: “کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں، اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو، سب جانتا ہوں؟”
English:
He said, “O Adam, inform them of their names.” And when he had informed them of their names, He said, “Did I not tell you that I know the unseen of the heavens and the earth? And I know what you reveal and what you have concealed.”
34. وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ
Urdu:
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا: “آدم کو سجدہ کرو”، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔
English:
And [mention] when We said to the angels, “Prostrate before Adam”; so they prostrated, except for Iblis. He refused and was arrogant and became of the disbelievers.
35. وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
Urdu:
اور ہم نے کہا: “اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، اور جہاں سے چاہو خوشی سے کھاؤ، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔”
English:
And We said, “O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat therefrom in ease and abundance from wherever you will. But do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers.”
36. فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
Urdu:
پھر شیطان نے انہیں وہاں سے پھسلا دیا اور اس حالت سے نکال دیا جس میں وہ تھے، اور ہم نے کہا: “اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، اور تمہارے لیے زمین میں کچھ مدت تک رہنے اور فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے۔”
English:
But Satan caused them to slip out of it and removed them from that [condition] in which they had been. And We said, “Go down, [all of you], as enemies to one another, and you will have upon the earth a place of settlement and provision for a time.”
37. فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
Urdu:
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
English:
Then Adam received from his Lord words [of revelation], and He accepted his repentance. Indeed, it is He who is the Accepting of repentance, the Merciful.
38. قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
Urdu:
ہم نے کہا: “تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
English:
We said, “Go down from it, all of you. And when guidance comes to you from Me, whoever follows My guidance — there will be no fear concerning them, nor will they grieve.”
39. وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
Urdu:
اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہی دوزخ کے ساتھی ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
English:
But those who disbelieve and deny Our signs — they are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.
یہ تھا سورۃ البقرہ (آیات 30 تا 39)
🌿 تخلیقِ آدم اور ہدایت و گمراہی کا پہلا سبق 🌿
کیا آپ چاہیں کہ میں اگلا حصہ آیات 40 تا 48 (بنی اسرائیل کو اللہ کی نصیحتیں) بھی اسی انداز میں لکھوں؟
0 Comments